آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا
کسی دبیز سے تھیلے میں ڈال کر لے جا

نہِِیں ہے تُو تو بھلا اِن سے مُجھ کو کیا لینا
دِل و دماغ، جِگر، سر نِکال کر لے جا

نہ ہو کہ خوف مِرے حوصلوں کو پست کرے
تُو میری آنکھوں پہ پٹّی سی ڈال کر لے جا

اگرچہ آرزُو کی چربیوں سے چرب نہِیں
پر احتیاط سے دِل کو کھگال کر لے جا

یہ کیا کہا ہے کہ تقدِیر ساتھ دیتی نہِیں؟
نئے سِرے سے کوئی اور چال کر، لے جا

کھرا ہے تُو تو مِری کھوٹ بھی کھری کر دے
مجھے بھی اپنے ہی سانچے میں ڈھال کر لے جا

اگر خلوص سے مجھ کو منانے آیا ہے
نئے سرے سے تعلق بحال کر لے جا

میں وحشتوں کے کسی بحرِ بیکراں میں ہوں
چلا ہوں ڈوبنے مجھ کو اُچھال کر لے جا

غزل رشِید کی اخبار میں تو دے آ تُو
پہن لے کوٹ، یہ اُوپر سے شال کر، لے جا

رشِید حسرتؔ

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button