اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے
اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے

ڈسنے لگی فاختہ کی آواز
کتنی سنسان دوپہر ہے

آرام کریں کہ راستہ لیں
وہ سامنے اک گھنا شجر ہے

خود سے ملتے تھے جس جگہ ہم
وہ گوشۂ عافیت کدھر ہے

ایسے گھر کی بہار معلوم
جس کی بنیاد آگ پر ہے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button