آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمر اشتر

ہم اگر تیری نگاہوں پہ نہ وارے جاتے

ایک اردو غزل از عمر اشتر

ہم اگر تیری نگاہوں پہ نہ وارے جاتے
شہرِ وحشت! تری چوکھٹ پہ ہی مارے جاتے

تُو اگر بزمِ محبت میں مجھے کرتا قبول
غم مرے دل سے اتر سارے کے سارے جاتے

ہونٹ پہ تیرے مرے ہونٹ کی باتیں ہوتیں
آنکھ میں تیری مری آنکھ کے تارے جاتے

دل لگی عمر بِتانے کا بہانہ ہی تو ہے
ورنہ ہم سادہ ضرر عشق میں مارے جاتے

عمر اشتر

post bar salamurdu

عمر اشتر

نام: عمر اشتر تاریخِ پیدائش: 02 ستمبر 2002ء والد کا نام: زوالفقار احمد دادا کا نام: نذیر حسین مذہب: اِسلام تحصیل و ضلع: سیالکوٹ ملک: پاکستان"تعارفی شعر"شدّتِ غم کو زرا کم تو وہ ہونے دیتی میں اگر رونے لگا تھا مجھے رونے دیتیزیرِ نگرانی مجھے رکھا ہوا ہے اُس نے وہ مجھے اور کسی کا نہیں ہونے دیتیہجر میں ہوتے ہوئے وصلِ جنوں ڈھونڈتا ہوں کتنا پاگل ہوں اداسی میں سکوں ڈھونڈتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button