اردو غزلیاتسعید خانشعر و شاعری

دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے

سعید خان کی اردو غزل

دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے
ہم یہاں کب ہیں یہاں ہوتے ہوئے

طعنہ زن اک تو نہیں دنیا بھی ہے
اور ہم چپ ہیں زباں ہوتے ہوئے

دشمنوں سے دھوپ کیوں مانگے کوئی
دوستی کا سائباں ہوتے ہوئے

شعلۂ غم آتشِ دل جو بھی ہو
وقت لگتا ہے دھواں ہوتے ہوئے

خاک ہونے کا تماشا کیا کریں
دشت کا دل میں سماں ہوتے ہوئے

تشنگی کا پاس رکھا ہے سعید
صحبتِ پیرِ مغاں ہوتے ہوئے

سعید خان

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button