آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضمیر قیس

خیالی زخم نہ مرہم سے

ضمیر قیس کی ایک اردو غزل

خیالی زخم نہ مرہم سے ڈھکنا پڑ جائے
سو احتیاط ، کسی کو بھنک نہ پڑ جائے
کریدنے سے تمھیں روکتا نہیں لیکن
یہ دیکھنا کہ گڑھا دور تک نہ پڑ جائے
نہیں ہے کوئی بھی مخصوص اس گلی کے لیے
یہ جستجو ہے ، جسے بھی بھٹکنا پڑ جائے
یہاں تلک رہا ہموار رابطہ اپنا
اب آگے راہ میں کچ٘ی سڑک نہ پڑ جائے
اسے طلب ہے الاؤ کی خشک جنگل میں
پتہ نہیں مجھے کب تک بھڑکنا پڑ جائے
اب اتنی ترک ِ تعلق پہ سوگواری کیوں
تجھے تو ڈر تھا کہ دنیا کو شک نہ پڑ جائے
نہ مل ضمیر تٌو برسوں کے بعد اب کہ اسے
بھرم نہ پہلی محبت کا رکھنا پڑ جائے

ضمیر قیس

post bar salamurdu

ضمیر قیس

ضمیرقیس ملتان سے تعلق رکھنے والا شاعر ہے غزلوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں اس کے پہلے مجموعے سے ہی اس کی غزل اٹھان نے ثابت کردیا تھا کہ ملتان سے غزل کا ایک اہم شاعر منظر عام پر آرہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button