میری آواز دنیا میں دبا سکتا نہیں کوئی
میں جیسے بھی نبھاتا ہوں نبھا سکتا نہیں کوئی
اگر موقع ملا ہم کو تو ہم گردن کٹا دیں گے
مگر یہ جان لے کافر جھکا سکتا نہیں کوئی
سنو لوگوں ہمیں کیوں تم یوں مرتا چھوڑ بیٹھے ہو
ابھی جو ہو رہا ہے سب خدا پر چھوڑ بیٹھے ہو
ہمارے دشمنوں کا ساتھ دے کرظلم کرتےہو
یوں غدا رں کی صف میں جا کے رشتہ توڑ بیٹھے ہو
میری خاطر ابھی اس دور میں کافر ہی بوال ہے
بتاؤ اے مسلمانوں کیا تم نے منہ بھی کھوال ہے
ابھی پھر یاد اتا ہے دوبارہ کربلا تم کو
مگر تم نے ہمارے واسطے کچھ بھی نہ بوال ہے
یہ ان کو مارتے ہیں جو یوں گھر کا گھر لٹاتے ہیں
خدا کے نام پہ جو یوں ہزاروں زخم کھا تے ہیں
کہ جن کے باپ دادا نے سکھایا ہو وفاداری
یہ ظالم ان کے ہی گھر پہ ہزاروں بم گراتے ہیں
نعمت اللہ رضا خواؔب








