اردو غزلیاتشعر و شاعریعدیم ہاشمی

اک جھلک اُس کفِ حنائی کی

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

اک جھلک اُس کفِ حنائی کی
نام اۃس کے سبھی خدائی کی

کتنی ہمدردیاں ملیں مجھ کو
خیر ہو تیری بے وفائی کی

پوچھ بیٹھا میں اُس کے گھر کا پتہ
ساری دنیا نے رہنمائی کی

کس قدر لازوال سنگت ہے
حسن کی اور بے وفائی کی

وہ وفادار ہے یہ خود دیکھیں
بات میں نے سُنی سُنائی کی

کیا خبر کب وہ سامنے آ جائے
کیا قسم کھائیں پارسائی کی

ذکر لکھا ہے اک قیامت کا
رات پھر آ گئی جدائی کی

جس سے تھوڑی سی بھی بھلائی کی
اُس نے بدلے میں وہ برائی کی!

عدیم ہاشمی 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button