آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکویتا غزل مہرا

غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے

ایک اردو غزل از کویتا غزل مہرا

غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے
اکیلے میں مجھ کو رلایا بہت ہے

مرا حوصلہ ہے جئیے جا رہی ہوں
جدائی نے تیری جلایا بہت ہے

وفا کی ڈگر پر چلی عمر بھر میں
ملا کچھ نہ مجھ کو گنوایا بہت ہے

نہ جانے یہ کیا ہے محبت یا نفرت
گیا جب سے تو یاد آیا بہت ہے

مجھے راس آئی نہ چاہت کبھی بھی
محبت کو میں نے نبھایا بہت ہے

وہ خوابوں میں میرے ہی چھایا ابھی تک
جسے یارو میں نے بھلایا بہت ہے

غزل اس لیے سوئی ہوں میں سکوں سے
مجھے رتجگوں نے جگایا بہت ہے

کویتا غزل مہرا

post bar salamurdu

کویتا غزل مہرا

میرا نام کویتا ہے میں ہندو خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں سیالکوٹ میں رہتی ہوں۔ میں نے ایم فل اردو کیا ہے - میں پہلے یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھائی تھی- اب میری 16 گریڈ کی جاب ہو گئی ہے - میں ایف جی پبلک سکول نمبر 1 میں ٹی جی ٹی کی پوسٹ پر ہوں -میں ایک شاعرہ اور کالم نگار بھی ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button