اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

تیرا حسنؔ یہ رونا یونہی

میر حسن کی اردو غزل

تیرا حسنؔ یہ رونا یونہی اگر رہے گا
ظالم تو پھر کسی کا کاہے کو گھر رہے گا

تیرے ہی غم کا گھر ہے یہ دل جلا نہ اِس کو
گر یہ جلا تو تیرا پھر غم کدھر رہے گا

تربت پہ بے کسوں کی رکھیو نہ پھول کوئی
گُل کی جگہ اُنھوں کا داغِ جگر رہے گا

آنا ہے گر تو آ جا جلدی وگرنہ یہ دل
یونہی تڑپ تڑپ کر کوئی دم میں مر رہے گا

بُت خانہ ہی میں چل بیٹھ یا کعبہ میں حسنؔ اب
یوں کب تلک دوانے تو دربدر رہے گا

میر حسن 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button