ساحر لدھیانوی
ساحر کتنے بااثر فلمی شاعر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے گانے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی پیاسا اور یش راج کی کبھی کبھی شامل ہیں۔ پیاسا کے گانے تو درجہ اول کی شاعری کے زمرے میں آتے ہیں:
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
اور یہ گانا
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا
اسی طرح کبھی کبھی میں "کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے” کے علاوہ "میں پل دو پل کا شاعر ہوں” ایسے گانے ہیں جو صرف ساحر ہی لکھ سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کسی اور فلمی شاعر کو یہ چھوٹ نہیں ملی کہ وہ اپنے حالاتِ زندگی پر مبنی نغمے لکھے۔
-

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں
ساحرؔ لدھیانوی کی اردو غزل
-

طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
ساحرؔ لدھیانوی کی اردو غزل
-

محفل سے اٹھ جانے والو تم لوگوں پر کیا الزام
ساحر لدھیانوی کی ایک اردو نظم
-

مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں
ساحر لدھیانوی کی ایک اردو غزل
-

موت کبھی بھی مل سکتی ہے
ساحر لدھیانوی کی ایک اردو غزل
-

میں جاگوں ساری رین سجن تم سو جاؤ
ساحر لدھیانوی کی ایک اردو نظم
-

ساحر لدھیانوی
ساحر لدھیانوی پر ایک مختصر سوانحی نوٹ

