امرتا پریتم
وہ 31 اگست 1919ء کو موجودہ پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔امرتا پریتم کی سب سے شہرہ آفاق نظم "اج آکھاں وارث شاہ نوں ” ہے، اس میں انھوں نے تقسیم ہند کے دوران ہوئے مظالم کا مرثیہ پڑھا ہے۔وہ بھارتی ایوانِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انھیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انھیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے، جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔
-

وساکھی
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

ہجر دی اس رات وِچ
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

نِت نِت وگدے رہن گے پانی
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

میں چُپ شانت تے اڈول
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

میں تینوں فیر ملاں گی
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

گِدھا
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

ساڈا چِڑیاں دا چنبا وے
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

راہیا راہ راہ جاندیا
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

چھلّیاں
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

چپّا چن
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

چانن دیاں چِھٹّاں
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

جِندے
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

پنکھیروا
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

ان داتا!
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

اَج گُندایاں نیں مَیں مینڈھیاں
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

اج آکھاں وارث شاہ نوں
ایک پنجابی نظم از امرتا پریتم
-

چیتر دا ونجارا آیا
امرتا پریتم کی پنجابی غزل