شہری سہولیات پر حملے اور معاشرتی بگاڑ کی علامتیں
معاشرتی اور تہذیبی اقدار کا زوال صرف زمانے کی گردش یا انسانی فطرت کی ضرورت نہیں، بلکہ بعض اوقات شعوری اور غیر شعوری اقدامات کے نتیجے میں بھی پیدا ہوتا ہے۔ میانوالی کا واقعہ اس کی تازہ مثال ہے، جہاں شہری سہولت کے لیے چلائی جانے والی گرین بس کے پہلے ہی دن کسی نے اینٹ مار کر شیشہ توڑ دیا۔ یہ محض مالی نقصان کا باعث نہیں، بلکہ ایک گہری تہذیبی تنزلی کی علامت ہے — وہ تنزلی جس میں احترام، شائستگی اور شہری رویوں کی قدر مفقود ہو گئی ہے۔
ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کس حد تک عام ہو چکی ہے، یہ واضح طور پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی تلخیاں، اختلاف رائے، یا معمولی تنازعات بھی آسانی سے تشدد اور جھگڑوں میں بدل جاتے ہیں۔ لوگ دوسروں کے خیالات یا حقوق کا احترام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور جذباتی ردعمل پر مبنی فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ یہ عدم برداشت صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی دھاچوں، اداروں اور شہری سہولیات تک کو متاثر کر رہی ہے۔ جب سماجی رویے تحمل اور شعور سے خالی ہو جاتے ہیں، تو ہر چھوٹا واقعہ—چاہے بس کا شیشہ ٹوٹنا ہو یا معمولی جھگڑا—تشدد اور انتشار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
میانوالی کا گرین بس واقعہ اسی ذہنی پسماندگی اور عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے۔ شہری سہولت کے پہلے دن بس کے شیشے کو نقصان پہنچانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ احترام اور اخلاقیات کی کمی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایسے رویے صرف مالی نقصان کا باعث نہیں بلکہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے، قانون کی حکمرانی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرناک ہیں۔
میں نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ عمران خان کی سیاست نے اس عدم برداشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2013 سے انہوں نے تشدد، نفرت اور بھڑکاؤ کے ذریعے قوم کو تقسیم کیا، نوجوان
نسل میں اشتعال پیدا کیا اور ایک ایسا ماحول بنایا جہاں اخلاقیات اور قانون کی حدود کمزور پڑ گئیں۔ خواتین پر حملے، جلاؤ گھیراؤ، اور ذاتی دشمنیوں کو سیاسی کھیل کا حصہ بنانا ان کی سیاست کا خاصہ رہا ہے۔ نوجوان نسل کو اشتعال دلانے کے ذریعے وہ خود ایک طاقتور سیاسی شخصیت کے پیچھے لگا کر منطق اور اخلاقیات سے دور لے گئے۔
یہ رویے نہ صرف فرد کی اخلاقی اور ذہنی پسماندگی کی علامت ہیں بلکہ ریاست کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی، شخصیت پرستی، اور عدم برداشت نے ہمیں ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں ہر چھوٹا واقعہ معاشرتی بیمار رویے کی علامت بن سکتا ہے۔ اگر آج ہم اس پسماندگی، شدت پسندی اور عدم برداشت کے خلاف اقدامات نہ کریں، تو کل کے لیے خطرہ ناقابل تلافی ہوگا۔
میانوالی کے واقعے سے واضح ہے کہ شہری سہولت، قانون کی پاسداری اور معاشرتی ہم آہنگی کو تحفظ دینے کے لیے نہ صرف قوانین مضبوط کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ہر شہری کی تربیت، اخلاقی شعور اور تحمل پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ہم اگر اپنی تہذیب، اخلاقیات اور سماجی رویوں کو دوبارہ مضبوط نہیں کریں گے، تو ریاست اور معاشرہ دونوں خطرے میں رہیں گے۔
یوسف صدیقی








