-
آپ کا سلام

گِلہ کرنے پہ بھی مَیں
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

تو ہے کہ جس کے واسطے
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

کسی دن آؤ
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

خلوص و پیار کے سانچے میں
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

اپنے آبأ کا گھر بیچنا ہے
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

کِسی نے ہم سے کہا تھا گُلاب چھاپیں گے
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

بِچھڑا وہ گویا زِیست میں آیا کبھی نہ تھا
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

تُمہارے نام لگا دی ہیں
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

مَیں شعر کہوں گا تو پذِیرائی کرے گا
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

فلک پہ لے گا نہ مُجھ کو
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

تمام عُمر اُسے مُجھ سے اِختِلاف رہا
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

وُه شور ہے کہ یہاں کُچھ سُنائی دیتا نہیں
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

مہنگائی کا اِک آیا ہے طُوفان یقیناً
رشید حسرت کی ایک اردو نظم
-
آپ کا سلام

گُلوں کی پالکی میں ہے
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-
آپ کا سلام

جو لفظ چِھین کے اِظہارکھینچ لیتی ہے
ایک اردو غزل از رشید حسرت


