آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفقیہ حیدر

کہیں تھی راکھ کہیں تھا

فقیہ حیدر کی ایک اردو غزل

کہیں تھی راکھ کہیں تھا دھواں کہیں تھی آگ
فلک ڈھکا تھا ستاروں سے جب زمیں تھی آگ

جمے ہوئے لب و رخسار بھی دہک رہے تھے
حصار موسم برفاب میں حسیں تھی آگ

حدود جسم سے باہر نکل کے سرد لگی
قیود جسم میں تھی جب تک تھی بر تریں تھی آگ

عداوتوں میں نئے رنگ بھر رہا تھا وہ
بغل میں سانپ تھے اور زیر آستیں تھی آگ

ترا ٹھٹھرتا بدن بھی بجھا سکا نہ مجھے
کچھ ایسے بر سر صحن بدن مکیں تھی آگ

شب وصال کا احوال پوچھنا مت دوست
پس قبائے غضب عطر عنبریں تھی آگ

کمال کن نے رکھا پیاس میں جمال آب
نہیں تھا جب کہیں پانی کہیں نہیں تھی آگ

سفر کا بوجھ برابر رہا ہے دونوں پر
جہاں جہاں بھی تھا پانی وہیں وہیں تھی آگ

وجود لمس کی لذت سے نا شناس رہا
وہ ہاتھ سرد تھا حیدرؔ مری جبیں تھی آگ

فقیہ حیدر

post bar salamurdu

فقیہ حیدر

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button