- Advertisement -

پاوں سنبھلے ہیں تو گل پوش بھی یاد آتا ہے

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

پاوں سنبھلے ہیں تو گل پوش بھی یاد آتا ہے
پارسائی میں بلا نوش بھی یاد آتا ہے

پہلے وقتوں کے اداکار بہت اچھے تھے
مجھے درپن نہیں سنتوش بھی یاد آتا ہے

بھوک کا مارا ہوا ریچھ بھی گزرا دل سے
چھپ کے بیٹھا ہوا خرگوش بھی یاد آتا ہے

وقت کی ریشمیں بانہیں بھی کہاں بھولیں گی
وقت کا کھردرا آغوش بھی یاد آتا ہے

یاد ہے جوتیاں رگڑیں تھیں انہی سڑکوں پر
خوں میں تر حلقہ ء پاپوش بھی یاد آتا ہے

یعنی ان دونوں کی تاثیر مجھے کھینچتی ہے
فیض کو یاد کروں جوش بھی یاد آتا ہے

عاطف کمال رانا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فیضان ہاشمی کی ایک اردو غزل