اللہ کی مدد، تاریخی فتح
ایک امت، ایک قوم، ایک تقدیر – تاریخی اتحاد
میں بچپن ہی سے اس بات پر حیران ہوتا آیا ہوں کہ اللہ نے ایک انسان کو دوسرے انسان سے کم تر کیوں سمجھا جاتا ہے؟ جبکہ سب کو اللہ نے ایک ہی مٹی سے پیدا کیا، ایک ہی رزق سے پالا، اور ایک ہی روح عطا کی۔ پھر بھی انسانوں نے آپس میں طبقاتی فرق، قوم پرستی، مذہبی نفرت اور خودغرضی کی دیواریں کھڑی کیں۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ یہ نظام جو ہمارے ذہنوں پر مسلط ہے، یہ محض کوئی انتظامی غلطی نہیں، بلکہ ایک
شعوری سازش ہے، جو انسان کو انسان سے جدا کر دے، حق سے دور کر دے، اور ناانصافی کی تاریکی میں دھکیل دے۔ خاص طور پر جب مسلمانوں کی حالت دیکھتا ہوں، تو یوں لگتا ہے جیسے اسلام کا صرف نام باقی ہے، لیکن اتحاد، اخلاص اور اللہ سے سچا تعلق کہیں کھو چکا ہے۔
2021 میں جب میں نے علامہ اقبال کو پڑھنا شروع کیا، تو گویا میرے اندر ایک سچے وجود کی پہچان بیدار ہوئی۔ اقبال کا فکر میرے دل کی آواز لگا۔ وہ کہتے ہیں:
"نہ تُرکی، نہ ایرانی، نہ افغانی، مسلمان ہم ہیں، وطن ہے سارا جہاں ہمارا”
یہ فکر میری رگوں میں اتر گیا۔
میں ایک INFJ مزاج کا شخص ہوں، میرے لیے اتحاد، اخلاص، سچائی اور ایمان صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک مشن ہیں۔ اقبال کی تعلیم میرے لیے صرف کتابی علم نہ رہا، بلکہ ایک عملی روشنی بن گئی، جس میں میں نے یہ جانا کہ تبدیلی کوئی سیاسی جماعت یا لیڈر نہیں لائے گا، بلکہ تبدیلی تب آئے گی جب انسان اپنا سچا تعلق اللہ سے جوڑ لے، اور صرف زبانی دعا نہیں، بلکہ عملی قدم بھی اُٹھائے۔
4 مئی 2025 کو جب میں نے اپنا مضمون لکھا تو میرے دل سے آواز آئی کہ ملک کی فضا ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی جیسی ہے۔ جہاں دشمن اندرونی محاذوں سے حملہ کر رہا ہے، قوم میں نفرتیں پھیلائی جا رہی ہیں، قومیت کے نعرے لگوائے جا رہے ہیں۔ سندھ، بلوچستان، کے پی، پنجاب کو ایک دوسرے سے جدا کر کے پیش کیا جا رہا ہے، جیسے 1971 میں ہوا۔ میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ ملک کا دفاع صرف تبدیلی سے نہیں، بلکہ
سچے ایمان سے ہوگا۔ اور 10 مئی کو، جب پورا ملک اندھیرے کے کنارے پر کھڑا تھا، اللہ کا شکر ہے کہ ہماری قوم نے عقل، جذبے اور ایمان کا مظاہرہ کیا، اور کوئی ایسا فیصلہ نہ ہوا جیسا 1971 میں ہوا تھا۔
یہ بات میرے اس یقین کو مزید پختہ کرتی ہے کہ جب اللہ کی مدد آتی ہے، تو حالات پلٹ جاتے ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ کے وقت میں دریا پھٹ گیا، جیسے بدر کے میدان میں فرشتے اُترے، جیسے صلاح الدین ایوبی کے دل میں ایک آگ بھڑکی، تو زمانے ہی بدل گئے۔ ویسے ہی اب بھی، میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ وقت قریب ہے، جہاں تبدیلی نہ صرف سیاسی بلکہ روحانی، اخلاقی اور بنیادی ہوگی۔
میں نے دیکھا کہ 10 مئی کو ملک کی باگ ڈور اللہ نے خود سنبھالی۔ قوم میں اللہ کا خوف اور وطن کی محبت کی ایک لہر اٹھی، جس نے اتحاد پیدا کیا۔ سیاسی جماعتوں، عوام، اور اداروں کے درمیان ایک بے مثال رابطہ وجود میں آیا، جو شاید دہائیوں سے نہیں ہوا تھا۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ کی خاص مدد تھی، جس نے ہمارے ملک کو ایک اور تقسیم سے بچا لیا۔ اور میرا دل زور سے کہتا ہے کہ یہ ملک محض ایک زمینی سرحد نہیں، یہ اسلامی دنیا کی امید ہے، ایک ایسا قلعہ ہے جو دشمنوں کے لیے رکاوٹ ہے، اور جسے توڑنے کے لیے وہ ہر ممکن سازش کرتے ہیں۔
تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، اور 10 مئی 2025 کو جو معجزہ پیش آیا، وہ محض عسکری طاقت نہیں بلکہ اللہ کی مدد، اتحاد، حکمت اور جذبے کا نتیجہ تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کس طرح اپنی مٹی، غیرت اور عقیدے کی حفاظت کے لیے دیوار بن کر کھڑا ہوا۔
جیسے غزوہ بدر میں 313 مومنین نے دشمن کی بڑی فوج کو شکست دی، ویسے ہی پاکستان کی فوج اور ائیر فورس نے بھی اللہ کی نصرت سے دشمن پر قہر بن کر ٹوٹا۔ یہ فتح صرف پاکستان کی نہ تھی، بلکہ اسلامی دنیا کی امیدوں کی فتح تھی۔
جیسے حضرت خالد بن ولید دشمن کے دلوں میں خوف بن کر چھا گئے تھے، ویسے ہی ہماری پاک فوج بھی دشمن کے لیے ہیبت بن کر سامنے آئی۔
یہ غازی، یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
10 مئی کا دن تاریخ کا وہ باب بن چکا ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ سکھائے گا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ایمان، یقین، اور اتحاد سے جیتی جاتی ہیں۔
پاکستان صرف ایک ملک نہیں رہا، بلکہ اسلامی دنیا کا فخر بن کر ابھرا۔ دنیا نے دیکھا کہ جب نیت صاف ہو، جذبہ سچا ہو، اور قوم متحد ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی مدد نازل کرتا ہے، اور ‘بنیان مرصوص’ (سیسہ پلائی دیوار) جیسی قوم
کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔
یہ کامیابی اس حقیقی شعور کی علامت تھی کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک عالمی مشن ہے، جس کے پیچھے ایک روحانی طاقت کھڑی ہے۔
اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اللہ سے جُڑے ہوتے ہیں، جو اپنی انا، لالچ، نفرت اور قوم پرستی سے بلند ہو کر سوچتے ہیں، وہی آنے والی تبدیلی کے علمبردار ہوں گے۔
تبدیلی نہ احتجاجوں سے، نہ تحریروں سے، نہ تقریروں سے آئے گی، بلکہ وہ اندر سے آئے گی، جب ضمیر جاگے گا، جب انسان کی نظر اللہ پر ہوگی اور اللہ والوں پر ہوگی، نہ کہ اس دجالی نظام پر جو دنیا کو صرف اپنی انا کے لیے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
لیکن جہاں شیطانی قوتیں اور فساد بڑھیں گے، وہاں اللہ والے بھی اُٹھیں گے، اور اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ یہ ہمارا کامل ایمان ہے۔
(13 مئی – انور علی)
🇵🇰 پاکستان زندہ باد، اُمت مسلمہ پائندہ باد 🇵🇰








