آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریماوٰی سلطان

تلاطموں کے درمیاں بھنور

ماوٰی سلطان کی ایک اردو غزل

تلاطموں کے درمیاں بھنور تو خود سفر میں ہے
کہ آگہی کے بھید کا سفر ، تو خود سفر میں ہے

مجاہدے مراقبے گیان کی سبیل ہیں
مقام کے حصول کا ہنر تو خود سفر میں ہے

قبائے کائنات پر چہار عنصروں کا رقص
کہ یاں ہزار سال سے بشر تو خود سفر میں ہے

گمان کی مچان پر یقین مت شکار کر
نجانے انت ہو گا کیا خبر تو خود سفر میں ہے

جو تیرگی کی داستاں اگر طویل ہے تو سن
یہیں ٹھہر سمجھ پرکھ سحر تو خود سفر میں ہے

نظر کا سب فریب ہے یہ گردشِ جہان بھی
تو کیوں نہیں سمجھ رہا ، نظر تو خود سفر میں ہے

ماوٰی سلطان

post bar salamurdu

ماوٰی سلطان

بنیادی طور پر حافظ آباد سے ہیں لیکن آج کل مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button