آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

قرآن مجید پڑھنے کی عادت

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

قرآن مجید گھر میں رکھنے کی بجائے پڑھنے کی عادت بنایئے

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

صحیح بخآری کی ایک حدیث جو احادیث کی دوسری کئی کتابوں میں بھی ملتی ہے اور جسے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والیہ نے ارشاد فرمایا کہ ” تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے ۔
( صحیح بخآری 5028 )

اس حدیث میں قرآن مجید کی اہمیت اور اس کا انسان کی زندگی پر گہرے اثر کا ذکر کیاگیا ہے

بالکل اسی طرح سنن ترمذی کی ایک حدیث پڑھئے
زید بن ارقم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو”
( سنن ترمذی 3786 )

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ان دونوں احادیث میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے قرآن مجید فرقان حمید کا ہماری زندگی سے گہرہ تعلق اور اس کی اہمیت لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں قرآن مجید کو آفس میں دکانوں میں اور گھروں میں خوبصورت جلدان پہنا کر رکھ تو لیتے ہیں لیکن پھر اسے کھولنے اور اس کو پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے سے دور رہتے ہیں اور وہ قرآن مجید وہ اللہ تعالیٰ کی مبارک کتاب جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ یہ ہی تمہارے لئے راہ نجات ہے بروز محشر مجھ تک پہنچنے کے لئے راستہ بھی یہیں سے ملے گا تو ہمیں ایک اہل ایمان مسلمان ہونے کے ناطے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید ہی ہماری زندگی ہے اور ڈرنا چاہئے اس دن سے جب ہمارے نبی حضور صلی اللہ علیہ والیہ وسلم اپنے رب سے ہماری شکایت کریں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید کی سورہ الفرقان کی 30 ویں آیت میں ارشاد فرمایا کہ

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا(30)

ترجمعہ کنزالایمان::
اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرالیا۔

اس آیت میں چھوڑنے سے اصل مراد تواس پر ایمان نہ لانا ہے۔ لیکن چھوڑنے کی اس کے علاوہ بھی صورتیں ہیں لہٰذا قرآن مجید کے حوالے سے مسلمان کاحال ایسا نہیں ہونا چاہئے جس سے یہ لگے کہ اس نے قرآن مجید کو چھوڑ رکھا ہے، بلکہ اسے چاہئے کہ روزانہ تلاوتِ قرآن کرے، قرآن مجید کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور ان میں غورو تَدَبُّر کیاکرے، نیز اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں جو احکامات دیئے ہیں ان پر عمل کرے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے باز رہے تاکہ وہ قرآن مجید کو عملی طور پر چھوڑ رکھنے والے لوگوں میں شامل نہ ہو۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اب اس بات کو سمجھانے کے لئے یہاں میں ایک واقعہ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہوں گا کہ آج کل ہم مسلمانوں کا کیا حال ہے ایک شہر کے معزز اور دولتمند شخص کو اپنے بچے کے لیئے ایک حافظ قران امام کی ضرورت تھی جو اسے قرآن مجید اچھی طرح پڑھائے کچھ ہی دنوں میں ایک حافظ قران امام صاحب تشریف لائے اور ان امام صاحب سے بچے کے والد سے کچھ گفت و شنید ہوئی اور اس کے بعد وہ امام صاحب دوسرے دن کا کہکر چلے گئے جب دوسرے دن وہ تشریف لائے تو بچہ کمرے میں پیسوں کے بنڈل سے کھیل رہا تھا امام صاحب کو دیکھ کر انہیں بیٹھنے کا کہا اور دوسرے کمرے سے سپارہ لینے چلا گیا امام صاحب کمرے میں پڑے صوفے پر بیٹھ گئے تو تھوڑی دیر میں وہ بچہ آگیا پہلے اس نے یہاں وہاں دیکھا پھر خاموشی سے امام صاحب کے پاس بیٹھ کر پڑھنے لگا اور یوں وہ امام صاحب اس بچے کو پڑھا کر وہاں سے رخصت ہوگئے اب وہ روزانہ آتے اور اس بچے کو بڑی محنت سے پڑھاتے آج امام صاحب کو یہاں آتے ہوئے کم و بیش دس دن گزر گئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک دن امام صاحب نے اس بچے سے کہا کہ میں جب سے تمہیں پڑھانے کے لیئے آرہا ہوں میں نوٹ کررہا ہوں کہ تم کچھ پریشان ہو اور پڑھنے میں دلچسپی بھی نہیں کے رہے آخر کیا بات ہے تو اس بچے نے ڈرتے ہوئے امام صاحب سے کہا کہ جب آپ پہلے دن میرے پاس آئے تھے تو میں پیسوں کے بنڈل سے کھیل رہا تھا اور آپ کو یہاں بٹھا کر دوسرے کمرے سے سپارہ لینے چلا گیا لیکن جب میں واپس آیا تو یہاں وہ پیسے نہیں تھے میں نے یہاں وہاں دیکھا لیکن خاموشی سے پڑھنے بیٹھ گیا کیونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ پیسے آپ نے اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیئے تھے لیکن میں خاموش رہا اور آج تک کچھ بھی نہیں کہا بچے کی بات سن کر امام صاحب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھوڑی دیر کے توقف کے بعد انہوں نے سامنے دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بچے سے کہا کہ ذرا اٹھو اور اس میں جو قرآن ہے اسے کھولو تو اس بچے نے ایسا ہی کیا لیکن جیسے ہی اس نے قرآن مجید کو کھولا تو اس میں وہ پیسے پڑے تھے جسے دیکھ کر شرمندگی سے اس کا چہرہ اتر گیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں امام صاحب نے افسوس بھرے انداز میں کہا کہ جب تم سپارہ لینے دوسرے کمرے میں گئے تو میں نے یہ پیسے یہ سوچ کر الماری میں رکھے قرآن مجید میں رکھے کہ گھر کا کوئی بھی فرد جب قرآن کھولے گا تو اسے یہ پیسے نظر آجائیں گے لیکن افسوس یہ ہے کہ پچھلے دس دنوں میں کسی نے بھی اس قرآن مجید کو نہیں کھولا اور آپ نے مجھے چور بھی ٹھرادیا یہ بتائو کہ یہ قرآن مجید اس الماری میں کیوں رکھا ہوا ہے تمہارے گھر میں کوئی ایسا نہیں جو تلاوت کرتا ہو اور اس قرآن مجید کو کھولتا ہو؟ کتنے افسوس کی بات ہے قرآن مجید گھر میں صرف الماری میں رکھنے کیلئے نہیں ہے بلکہ پڑھنے کے لئے ہے سمجھنے کے لئے ہے اور پھر اس پر عمل کرکے اپنی زندگی گزارنے کے لئے ہے ورنہ پھر اس گھر سے برکتیں ختم ہوجاتی ہے فرشتوں کی آمد و رفت بند ہوجاتی ہے جہاں اس کی تلاوت نہ ہوتی ہو لہذہ قرآن مجید روزانہ کھولنے اور اس کی تلاوت کی عادت بنائیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قرآن مجید صرف کسی کتاب کا نام نہیں بلکہ یہ ایک معجزہ ہے آپ کوئی بھی کتاب پڑھنا شروع کریں تھوڑی پڑھ کر یا پوری پڑھ کر بھی اسے یا تو رکھ دیں گے یا کسی اور کو دے دیں گے جبکہ قرآن مجید کئی کئی مرتبہ پڑھا جاتا ہے لیکن جب بھی پڑھا جاتا ہے ہے اسے نیا نیا محسوس ہوتا ہے اور قرآن مجید کا نزول واقعی ایک معجزہ ہے اگر قرآن مجید کو صحیح العقیدہ ترجمعہ اور ترجمعہ کنزالایمان کی تفسیر کے ساتھ پڑھیں تو آپ کو اپنی زندگی گزارنے کے تمام صحیح راستے یہیں سے ملیں گے کیونکہ جس عمل کی وجہ سے ہم گناہگاروں میں شامل ہو جاتے ہیں اور جس عمل کی وجہ سے ہم جنت کی طرف بڑھتے ہیں یہ ہمیں قرآن ہی بتاتا ہے یہ ہی ہماری رہنمائی گرتا ہے خدارا قرآن مجید کھولنے اور اس کی تلاوت کرنے کی عادت بنالیجیئے اپنے روزانہ کے معمولات میں اس کو شامل کر لیجیئے پھر دیکھیئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اوپر اپنی نعمتوں ، رحمتوں اور نوازشوں کی کیسی اور کس طرح بارش کرتا ہے ان شاءاللہ ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس مختصر مگر جامع تحریر کو پڑھ کر سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی آج سے ہی عادت بنالیں مجھے اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھا کیجیئے میری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمام پڑھنے والوں کی ہر جائز اور دلی آرزو اپنے شایان شان قبول فرمائے آمین آمین بجاالنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم ۔

محمد یوسف برکاتی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button