Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
خالی کوزے جھانک رہی ہو
پھر سے دل کے آسماں پر حیرتوں کا در کھلا
سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی نکلے نہیں ہیں
مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے
دل مرا چٸیرنگ کراس
گریز آثار
حوالہ
یہ مِرا دل ہے
بے جان زندہ لوگ
راستے میں نہ آ شجر کی طرح
درد کی نیلی رگیں
مثالِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں
درد کی نیلی رگیں تہہ سے اُبھر آتی ہیں
اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں
<<
1
...
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
...
701
>>