- Advertisement -

مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے

حیات عبداللہ کا ایک اردو کالم

مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے

جگمگاتی رعنائی اور جھلملاتی زیبائی کے جلو میں عید کا چاند افق کے اس پار طلوع ہونے کو ہے۔چند دن بعد ہی رحمت مآب ماہ صیام اپنے لمحات سمیٹ کر عید کی صورت میں ربّ کی نعمتیں حاصل کرنے کا ایک انمول موقع فراہم کرنے والا ہے۔ہلالِ عید نظر آتے ہی دلوں میں انواع واقسام کے ارمان مچلنے لگتے ہیں۔چاند رات اپنی سیاہ زلفوں میں شادمانیوں کے گجرے سجا کر شوخیوں میں ڈھلنے لگتی ہے اور پھر منتظر آنکھوں میں انتظار کی لَو بھڑکتی چلی جاتی ہے۔
کاش! آ جائے وہ جس کے ہیں منتظر
میرا دل، بام و در، کھڑکیاں عید پر
عید ایک احساس کا نام ہے، ایک ایسا جذبہ جو درون دل سے لے کر انسان کے مضافات تک آرزوؤں کے کنول کِھلا دیتا ہے۔جو شہرِ تمنّا کی رونقوں اور چہل پہل میں رنگ، روشنی اور نور کی برسات کر دیتا ہے، جو دھڑکنوں کے سارے نشیب و فراز کو عجیب تازگی عطا کر دیتا ہے۔مگر کچھ لوگ عید کے دن بھی غالب اور مغلوب کے چکروں میں الجھے رہتے ہیں۔فتح و شکست اور فاتح و مفتوح کے بکھیڑوں میں پڑ کر عید کی حقیقی لذّتون کو گنوا بیٹھتے ہیں، وہ دلوں کی کبیدگی اور کشیدگی کو بہ روزِ عید بھی ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، وہ رمضان کی مبارک ساعتیں اور عید کی پُرسکون راحتیں ضائع کرنا تو گوارا کر لیتے ہیں مگر اپنے دل میں اُگی نفرتوں کی جھاڑیوں کو تلف کرنا پسند نہیں کرتے۔کاش! مسلمان اسلام کی حقانیت اور عید کی حقیقت اور حکمت کو بھی سمجھ لیتے۔
باہمی رنجشیں بھول کر آ ملو
توڑ ڈالو سبھی بیڑیاں عید پر
اے کاش! ہم یہ جان جاتے کہ دراصل عید کی صورت میں اللہ تعالیٰ کشیدگی میں سنجیدگی اختیار کر لینے والوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
دنیا والو! خدارا لے آؤ
دل کو دل کے قریب عید کے دن
بڑی سے بڑی رنجشوں اور عداوتوں کو پسِ پشت ڈال کر چھوٹی سے چھوٹی بات سے خوشیاں کشید کرنا ہی عید کا تقاضا ہے۔لیکن اگر کسی کی عید کا دن بھی سخت کوشی اور سخت جانی میں گزرے تو اس کی کیا کیفیت ہو گی؟ اگر بہ روز عید ہی زندگی کا سارا سکون اپاہج کر دیا جائے تو اس حرماں نصیب پر کیا بیتے گی؟ اگر عید کے دن ہی کسی کے جگر گوشوں کے سینوں میں گولیاں اتار دی جائیں تو اس کے احساسات کس طرح بکھر جاتے ہوں گے؟ اگر لوگوں کو عید کی نماز نہ پڑھنے دی جائے، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت معطّل کر دی جائے اور چِلّی بم (مرچوں والے) اُن پر پھینک کر اُن کی سانسیں تنگ کر دی جائیں اور پیلیٹ گنوں کے ذریعے اُن کی آنکھیں تک چھین لی جائیں تو وہ ماحول کتنا مظلوم اور محکوم ہو گا۔دنیا جانتی ہے کہ اگر کھڑکیاں اور دروازے بند بھی ہوں تو چِلّی بم کی گیس گھروں میں داخل ہو جاتی ہے۔عید کے دن اگر گلیاں سنسان اور بازار ویران ہوں تو وہ منظر کس قدر پُر ہول ہو گا؟ گذشتہ عید پر بھی مقبوضہ کشمیر کی عید گاہیں سوالیہ نشان بنی ہوئی تھیں۔کئی کشمیریوں کو بھارتی فوج نے شہید کر دیا تھا اور جو کشمیری اپنے گھروں سے دُور تھے انھیں اپنے گھروں تک آنے کی اجازت نہ دی گئی۔یا الٰہی یہ کیسا خطّہ ہے کہ جہاں عید کے دن بھی جنازے اٹھتے اور سہاگ اجڑتے ہیں۔جہاں رنگین دنوں کو بھی سنگین بنا دیا جاتا ہے۔وہ خطّہ جو جنت کی مثال تھا، وہ دنیا کا سب سے خوب صورت علاقہ جس کے سارے مناظر یاسمین، چنبیلی اور گلاب سے مہکتے تھے، وہ کشمیر کہ بلبلیں اور قمریاں جس کا استعارہ تھیں، وہ جنت نظیر وادی جو ساری دنیا کی وادیوں کی شہزادی تھی، وہ پَربتیں جن کی صرف ایک جھلک دیکھ کر ہی آنکھیں مثلِ صدف چمک اٹھتی تھیں، آج لہولہان ہے،آہ و فغاں کشمیریوں کا مقدر بنا دی گئی ہیں۔ سارے بے اعتبار اور بے اختیار موسم اُن کی زندگیوں میں جھونک دیے گئے ہیں۔
میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ احساسات کی سطح مرتفع پر فائز ہیں، سو میں احساسات کے اس اوج پر صرف ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ یہ سارے کرب اور آزار اہلِ کشمیر کی ذات پر انڈیل دینے کی وجہ کیا ہے؟ اُن لوگوں کے گرد الم کی آہنی فصیلیں کیوں کھڑی کر دی گئی ہیں؟ 73 سال بیت چلے مگر آلام کے کسی حصّے میں آرام داخل کیوں نہیں ہو رہا؟ جذبات کے بلند مرتبے پر متمکن ہونے کے باوجود بھی آپ کو جواب نہیں آ رہا تو میں بتا دیتا ہوں کہ اس کی وجہ اہلِ کشمیر کی ہمارے ساتھ بے لوث محبت ہے، وہ ہمارے سنگ جینا چاہتے ہیں، سو وہ گولیوں کے سامنے سینہ تان کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔اُن کی مَحبتوں کا لمس اتنا روح پرور ہے کہ وہ اپنے شہدا کو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں۔میں اُن اہلِ جنون کشمیریوں کی جراَت کو کیا نام دوں کہ جو اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستانی جھنڈے لہرا کر جو خوشی حاصل کرتے ہیں ہم اس کا عشر عشیر بھی محسوس نہیں کر سکتے اور بھارتی فوج یہ بھی خوب جانتی ہے کہ عید کے دن پاکستان کے ساتھ مَحبت کا یہ بحر بے کراں کسی طور رک ہی نہیں سکے گا اسی لیے وہ کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیتی ہے لیکن بھارتی فوج یہ نہیں جانتی کہ جسموں کو مقیّد کیا جا سکتا ہے مگر کسی انسان کے فکر، خیال اور سوچ کو زنجیریں نہیں پہنائی جا سکتیں۔
چاہتوں کا لطف دوبالا کرنے کے لیے ہلالِ عید پھر طلوع ہوا چاہتا ہے۔وہی عید کا چاند جو اہلِ کشمیر کے لیے دل گیر آہوں اور سسکیوں کے پُرہول غول لے کر آتا ہے، وہی ہلالِ عید جو اُن مظلوموں کی خوشیوں کو محصور کر ڈالتا ہے۔اس قلم کشائی کے ذریعے آپ کے دلوں کے تاروں کو چھیڑنے کا مقصودو مطلوب فقط یہ ہے کہ ہم عید کے سعید لمحات میں اپنے کشمیری بھائیوں کے کرب و الم کو یاد رکھیں۔ہم اُن کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے تو دعا تو کر ہی سکتے ہیں۔ سو دعاؤں کی سوغات ضرور دیجیے، اپنے ان اہلِ وفا بھائیوں کو جن کی آنکھوں کے سارے سپنے پاکستان سے شروع ہو کر پاکستان پر ہی ختم ہوتے ہیں۔
غم زدہ جو بھی نظر آئے کرو غم اس کا دُور
مندمل کر دو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے

حیات عبداللہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
یونس متین کی ایک اردو نظم