Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
نظم لکھتی ہے تجھے
محبت آب و دانے کی طرح سے ہے
آئینہ خانہ
آنکھ میں خواب نہیں، خواب کا ثانی بھی نہیں
زندگی چار دن کی مہلت ہے
اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کرسکتے
اب کسی بات پہ کیا اُس سے خفا ہونا ہے
یوں سرِ شام تری یاد میں آنسو نکل آئے
میں اِک شیشہ تھا، پتھر ہو گیا ہوں
یہ تو سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ مر جائے گا
سفر نامہ حجاز
جو دیا تو نے ہمیں وہ صورت زر رکھ لیا
تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے
میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں
<<
1
...
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
...
701
>>