Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ان آنکھوں کو سپنے دکھائے تو ہوتے
تمھارے لیے ایک نظم
کوئی بات کرو
دو وقتوں کی ایک نظم
گزر اوقات نہیں ہو پاتی
تُم قیدی ہو
کبھی بدلی سجیلی دھوپ کو آ کر بھگوتی ہے
قسم اُس صبحِ ساحر کی
گر میں دریا کے پا س آؤں گی
خوشبوؤں سے کلام مت کرنا
ستارہ ایک چلو آسماں سے ٹوٹ گیا
جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں
تم سے کہنا تھا
مرجھائے ہوئے جسم سجا کیوں نہیں دیتے
<<
1
...
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
...
701
>>