Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
نیند میں کھُلتے ہوئے خواب کی عریانی پر
نیند میں خواب کھُلے خواب میں ہو نیل پری
خواب کے سحر سے بچا لیا جائے
اِس سے آگے زندگی معدوم ہے
اس کی نظر کو داد دو جس نے یہ حال کر دیا
ہمارے سینے میں جو خلا تھا
پربتوں کی چوٹی پر
شمع کے ساتھ ستارے بھی بُجھا جاتا تھا
عجب نہیں ھے جو آواز جا بجا ھے مری
کوئی شام مجھ میں سمٹ گئی
ناز کرتا رہے میرے ساتھ
رواں دواں ہے تری سمت اس سبب سے کوئی
مجھے انتظار تھا شام سے
فلم “ہجرت” کا تھیم ہیں ہم لوگ
<<
1
...
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
...
701
>>