Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
غم کا راہ اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے
تیری آواز چلی آتی ہے
گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی
درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لئے
راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا
شہرِ برباد میں
کیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیں
تلاشِ گمشدہ
جب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گے
تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
کیسی بھلا یہ برہمی کیسا یہ پیچ و تاب ہے
آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر
<<
1
...
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
...
701
>>