Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے
اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا
بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا
حیراں ہوں زندگی کی انوکھی اڑان پر
جلتا رہا ہوں رات کی تپتی چٹان پر
تمہارے وہاں سے یہاں آتے آتے
اڑ کر کبوتر ایک سرِ بام آ گیا
جب ترا دامنِ تر یاد آیا
خدا بھی اور سمندر میں ناخدا بھی ہے
سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟
پھر جدائی، پھر جئے، پھر مر چلے
تر بہ تر اے چشم تجھ کو کر چلے
تُو نے پھینکا عدیم جال کہاں
اور ہے اپنی کہانی اور ہے
<<
1
...
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
...
701
>>