Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
چھلکا چھلکا رہتا ہے ، درد سے بھرا ساون
مرے گھر میں محبت خوبصورت شام آنے دے
وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا
ابر بھی جھیل پر برستا ہے
پاس منزل کے پہنچ کر کوئی موڑا نہ کرے
اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی
گھر دروازے سے دُوری پر سات سمندر بیچ
ملے گی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں
زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے
خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے
تاش کے گھر بنائے بیٹھی ہوں
ہیلو
مری خامشی میں بھی اعجاز آئے
چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں
<<
1
...
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
...
701
>>