Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
رتجگے کرتی ہوئی پاگل ہوا کچھ ٹھہر جا
خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں
دشمنِ جاں کوئی مہمان بناتی ہوں میں
بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا
دھوپ گر نہ صحرا کے، راز کہہ گئی ہوتی
ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے
اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے سات ہو
ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے
تخلیق کا عمل اسے سچی خوشی لگا
ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹھہر گیا ہے
بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا
خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
<<
1
...
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
...
701
>>