Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے
دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا
دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے
کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا
فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں
میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا
ہر ایک رنگ دھنک کی مثال ایسا تھا
دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا
اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا
غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا
جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی
اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک
دشت میں وادئ شاداب کو چھو کر آیا
<<
1
...
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
...
701
>>