Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں
آدھی رات کے شاید سپنے جھوٹے تھے
مرے خیال کے برعکس، وہ بھی کیسا ہے
آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا
جب بھی خوشبو سا مرے دل نے بکھرنا چاہا
کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے
مرے قریب ہی گو زرد شال رکھی ہے
ہے ذرا سا سفر ، گزارا کر
شام کی گنگناہٹوں میں گم
منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو
بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں
یاد رکھنے کے لیے اور نہ بھُلانے کے لیے
جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت
<<
1
...
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
...
701
>>