Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
مِرے دُشمن
کیا جانئے کیا ہوا ہے مجھ میں
روشنی سے شبیں چراتی ہوں
مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں
میں چھوٹی سی لڑکی بہت ہی بڑی ہوں
بام و در ہیں ترے اشکوں سے فروزاں نیناں
بسی ہے یاد کوئی آ کے میرے کاجل میں
کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے
چٹانوں سے وہ ٹکر ا کر ، گری ہے آبشاروں میں
زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا
سب اختیار اس کاہے ، کم اختیار میں
اُس نے نرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے
کیا ہے جو ابھی ہوا نہیں ہے
اپنے شہر زاد سے
<<
1
...
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
...
701
>>