Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا
کوئی ان دیکھی فضا تصویر کرنا چاہیئے
جنوں کو رخت کیا خاک کو لبادہ کیا
قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے
خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے
زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا
تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں
تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا
کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے
مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں
یہ جو بیدار دکھائی دیا ہوں
چراغ طاق طلسمات میں دکھائی دیا
تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں
دانۂ گندم بیدار اٹھانے لگا ہوں
<<
1
...
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
...
701
>>