Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
چار شعر
گھر برسنے لگے ہیں بارش میں
روز ابھرتے ہیں، روز ڈوبتے ہیں
کوئی گلا نہ شکایت ہے کیا کیا جائے
انگلیوں سے لپٹ نہیں پاتی
آئینہ توڑ دے رِہا کر دے
ہوائے دُشمن شناس آگے، کھلا تو اِک بادبان تھا میں
سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے
منتظر ہیں پنگھٹوں کے راستے
عشق نے کیا کیا رنج سہے تم کیا جانو
آنکھ کنارے خواب سمندر جاگے گا
یہ ہجر و وصال ہیں تمھارے
جو آئینہ تیری صورت عکس دے نہ مجھے
نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
<<
1
...
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
...
701
>>