آپ کا سلاماردو نظمشاکرہ نندنیشعر و شاعری

آہنگِ خاکی

ایک اردو نظم از شاکرہ نندنی

کیا تجھے خبر ہے تُو کون ہے؟
ذرّہ نہیں، تو سماں ہے، تُو کون ہے؟

خاک میں پوشیدہ راز ہے تیرا،
نور سے لبریز ساز ہے تیرا۔

مٹی سے اُبھرا ہے تُو بے سبب؟
یا ہے کوئی مقصدِ جاں طلب؟

آسماں تیرے منتظر تھے کب سے،
تُو ہوا جلوہ، گواہ ہے سب سے۔

قطرہ ہے تُو، مگر بحر کی نیت!
ذرے میں رکھ دی گئی ہے ولایت۔

فرشتے حیران، "یہی ہے خلیفہ؟”
علم نے دی اُن کے شبہ کو صفا۔

یہ زمیں، یہ فلک، یہ زمانہ تمام،
بس ترے دم سے ہے ان میں دوام۔

چاہے تو گلشن بنا دے جہاں کو،
چاہے تو خاکستر کر دے سماں کو۔

خود کو پہچان، کہیں جاں نہ کھو دے،
راستہ اپنا کہیں اور موڑ دے۔

تُو امانت ہے، تخت نہیں کوئی،
یہ خلافت ہے، سلطنت نہیں کوئی۔

بزمِ ہستی میں اپنا مقام کر،
ذرّہ ہو کر بھی ایک نظام کر۔

شاکرہ نندنی

post bar salamurdu

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button