اردو غزلیاتامیر مینائیشعر و شاعری

میں رو رو کے آہ کروں گا

امیر مینائی کی اردو غزل

میں رو رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
زمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے

رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے
مکیں کی خیر ہو یارب مکاں رہے نہ رہے

ابھی مزار پر احباب فاتح پڑھ لیں
پھر اس قدر بھی ہمارا نشان رہے نہ رہے

خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد
پھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ رہے

خزاں تو خیر سے گزری چمن میں بلبل کی
بہار آئی ہے اب آشیاں رہے نہ رہے

چلا تو ہوں پئے اظہار دردِ دل دیکھوں
حضورِ یار مجالِ بیاں رہے نہ رہے

امیر جمع ہیں احباب دردِ دل کہ لے
پھر التفات دلِ دوستاں رہے نہ رہے​

امیر مینائی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button