اردو غزلیاتزبیر قیصرشعر و شاعری

نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے

زبیر قیصر کی ایک اردو غزل

نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے

زیادہ بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے

کوئی نہیں ہے یہاں اعتبار کے قابل

کسی کو راز بتاؤگے مارے جاؤ گے

ہر ایک شاخ پہ چھڑکا ہوا ہے زہر یہاں

شجر کو ہاتھ لگاؤ گے مارے جاؤ گے

جو کاندھے پر ہو وہ گردن اتار لیتا ہے

کسی کو اونچا اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے

ہر ایک آئینہ منظر جدا بناتا ہے

نظر کا بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے

دھوئیں میں ملنا مقدر ہے ان لکیروں کا

ہوا میں نقش بناؤ گے مارے جاؤ گے

یہ نفسیاتی مریضوں کا شہر ہے قیصرؔ

کوئی سوال اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے

زبیر قیصر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button