آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمز

مجھے وہاں جانا ہے

میر حسن کا ایک اردو کالم

مجھے وہاں جانا ہے جہاں گھاس سبز ہو، جہاں ہوا صاف اور خوشبودار ہو، جہاں درخت گھنے اور لمبے ہوں اور جہاں پانی کے جھرنے بہتے ہوں۔ ایک ایسی جگہ جہاں صبح آنکھ کھلے تو گاڑیوں کا شور نہ ہو، لوگوں کی آوازیں نہ ہوں، بس پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دے اور کھڑکی سے باہر دیکھوں تو دور تک سبزہ ہی سبزہ ہو۔

مجھے وہاں جانا ہے جہاں کوئی نہ رہتا ہو، جہاں خاموشی بولتی ہو۔ جہاں کوئی آپ سے یہ نہ پوچھے کہ آپ کیا کر رہے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، کیوں خاموش ہیں یا کس بات سے پریشان ہیں۔ جہاں کسی کو آپ کی موجودگی سے کوئی غرض نہ ہو اور نہ آپ کو کسی کے سامنے اپنی حالت بیان کرنی پڑے۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں نہ کسی کے آنے کی آس ہو، نہ کسی کے جانے کا ملال۔ نہ کسی سے کوئی شکوہ ہو، نہ کوئی شکایت۔ جہاں زندگی اتنی سادہ ہو کہ صبح اُٹھنے کے بعد یہ سوچنا نہ پڑے کہ آج کن لوگوں سے ملنا ہے، کون سے کام نمٹانے ہیں اور کس کس کی توقعات پر پورا اُترنا ہے۔

مجھے وہاں جانا ہے جہاں صرف پرندے چہچہاتے ہوں، جہاں ہرن بےخوف گھومتے ہوں، جہاں تتلیاں پھولوں پر منڈلاتی ہوں۔ جہاں جانور انسان کو دیکھ کر خوفزدہ نہ ہوں اور انسان بھی کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے نہ آیا ہو۔ بس سب اپنی اپنی زندگی جی رہے ہوں۔

میں چاہتا ہوں کہ وہاں پہاڑ بھی ہوں۔ اتنے بلند کہ اُن کی چوٹیاں بادلوں میں چھپی رہیں۔ پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیاں ہوں، جہاں صبح کے وقت دھند اُترتی ہو اور سورج نکلنے کے بعد آہستہ آہستہ چھٹ جاتی ہو۔ درختوں کے پتوں سے چھن کر آنے والی دھوپ زمین پر پڑتی ہو۔ قریب ہی کوئی چھوٹی سی ندی بہتی ہو جس کے کنارے بیٹھ کر گھنٹوں پانی کو دیکھتا رہوں۔

اور جب بارش ہو تو کسی درخت کے نیچے یا کسی چھوٹی سی لکڑی کی چھت کے نیچے بیٹھ کر بارش کی آواز سنوں۔ مٹی سے اُٹھنے والی سوندھی خوشبو محسوس کروں۔ پتوں سے ٹپکتے قطروں کو دیکھوں اور اُس وقت مجھے کسی فون کی گھنٹی، کسی پیغام یا کسی ضروری کام کی فکر نہ ہو۔

مجھے وہاں جانا ہے جہاں وقت کی کوئی پابندی نہ ہو۔ جہاں گھڑی دیکھ کر سونا نہ پڑے اور الارم لگا کر جاگنا نہ پڑے۔ جہاں صبح جب آنکھ کھلے تو اُٹھ جاؤں اور رات جب نیند آئے تو سو جاؤں۔ جہاں کسی سے آگے نکلنے کی دوڑ نہ ہو اور نہ پیچھے رہ جانے کا ڈر۔

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا کتنا حصہ دوسروں کے لیے گزار دیتے ہیں؟ کبھی کسی کو خوش کرنے میں، کبھی کسی کو منانے میں اور کبھی کسی کو یہ یقین دلانے میں کہ ہم بھی کسی قابل ہیں۔ اس سب میں انسان اپنے لیے وقت نکالنا ہی بھول جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب لوگوں کی موجودگی بھی تھکانے لگتی ہے، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جن سے کبھی بات کیے بغیر دن نہیں گزرتا تھا۔

مجھے وہاں جانا ہے جہاں نہ لوگوں کے بدلتے لہجے ہوں، نہ رویوں کا حساب رکھنا پڑے۔ جہاں کوئی آج اپنا اور کل اجنبی نہ بن جائے۔ جہاں نہ کسی کو پانے کی ضد ہو، نہ کسی کو کھونے کا خوف۔ جہاں کسی کے جواب کا انتظار نہ کرنا پڑے اور نہ کسی کی خاموشی کا مطلب سمجھنے میں راتیں گزارنی پڑیں۔

میں چاہتا ہوں کہ کسی دن ایک چھوٹا سا گھر ہو، لکڑی کا بنا ہوا۔ اُس کے سامنے گھاس کا میدان ہو، کچھ فاصلے پر درخت ہوں اور اُن کے پیچھے پہاڑ نظر آتے ہوں۔ گھر کے پاس پانی بہتا ہو۔ صبح چائے کا کپ لے کر باہر بیٹھوں اور دیر تک کچھ نہ کروں۔ نہ اخبار پڑھوں، نہ موبائل دیکھوں۔ بس سامنے موجود چیزوں کو دیکھتا رہوں۔

شام کے وقت کسی پگڈنڈی پر چلتا ہوا دور نکل جاؤں۔ راستے میں کبھی کسی پھول کے پاس رُک جاؤں، کبھی کسی پرندے کی آواز سننے لگوں۔ کوئی منزل طے نہ ہو۔ جہاں دل چاہے بیٹھ جاؤں اور جب جی چاہے واپس آ جاؤں۔

رات ہو تو آسمان ستاروں سے بھرا ہو۔ شہر کی روشنیوں سے دور وہ ستارے بھی نظر آئیں جو یہاں کبھی دکھائی نہیں دیتے۔ چاندنی درختوں اور پہاڑوں پر پڑ رہی ہو۔ ہر طرف خاموشی ہو، مگر ایسی خاموشی جس میں خوف نہ ہو۔ بس سکون ہو۔

مجھے وہاں جانا ہے جہاں میں خود سے باتیں کر سکوں۔ اپنی زندگی کے اُن فیصلوں پر سوچ سکوں جنہیں کرتے وقت میرے پاس سوچنے کا وقت ہی نہیں تھا۔ اپنے اندر جمع ہونے والی باتوں کو سمجھ سکوں۔ کچھ یادوں پر مسکرا سکوں اور کچھ کو ہمیشہ کے لیے وہیں چھوڑ آؤں۔

شاید آپ اسے تنہائی کہیں، مگر میرے لیے یہ تنہائی نہیں ہوگی۔ میں صرف کچھ عرصہ ایسے رہنا چاہتا ہوں جہاں مجھے کوئی جانتا نہ ہو۔ جہاں میرا کوئی تعارف نہ ہو، کوئی پہچان نہ ہو۔ جہاں میں کسی کی توقع نہ بنوں اور نہ کوئی میری توقعات توڑے۔

یہ بھی نہیں کہ مجھے انسانوں سے نفرت ہے یا میں زندگی سے بھاگنا چاہتا ہوں۔ بات صرف اتنی ہے کہ کبھی کبھی انسان مسلسل بولتے، سنتے، سمجھاتے اور سمجھتے ہوئے تھک جاتا ہے۔ پھر اُس کا دل چاہتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے کسی کو کچھ نہ سمجھانا پڑے۔ کوئی اُس سے سوال نہ کرے اور وہ بھی کسی سے جواب نہ مانگے۔

مجھے وہاں جانا ہے جہاں ماضی کی یادیں بار بار نہ ستائیں اور مستقبل کی فکریں ہر وقت ذہن میں نہ گھومتی رہیں۔ جہاں میں آج کے دن کو آج ہی میں گزار سکوں۔ جہاں ایک پوری دوپہر درخت کے نیچے بیٹھ کر گزر جائے اور شام کو یہ احساس نہ ہو کہ آج کا دن ضائع ہو گیا۔

میں جانتا ہوں کہ ایسی جگہ مل بھی جائے تو زندگی کے سارے مسئلے ختم نہیں ہوں گے۔ کچھ باتیں انسان جہاں بھی جائے، اُس کے ساتھ رہتی ہیں۔ مگر شاید وہاں اتنی خاموشی ضرور مل جائے کہ میں اپنے دل کی بات سن سکوں۔ شاید کچھ الجھنیں خود ہی سلجھ جائیں اور کچھ ایسی ہوں جنہیں سلجھانا ضروری ہی نہ لگے۔

اور حسنؔ! مجھے وہاں جانا ہے جہاں دنیا سے کچھ فاصلے پر ہو کر اپنے آپ کے قریب آ سکوں۔ جہاں مجھے یہ فکر نہ ہو کہ میرے پاس کیا نہیں ہے، بلکہ جو کچھ سامنے موجود ہو، میں اُسے جی بھر کر دیکھ سکوں۔

جہاں کچھ بھی میرا نہ ہو، نہ زمین، نہ درخت، نہ پہاڑ، نہ بہتا ہوا پانی۔

مگر سکون سارا میرا ہو۔

میر حسنؔ

post bar salamurdu

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button