آپ کا سلاماردو نظمشاکرہ نندنیشعر و شاعری

بدن سے باطن تک

ایک اردو نظم از شاکرہ نندنی

خودی کو بیچ کے پایا بدن کا تاج میں نے
مگر سکوں نہ ملا، چاہ تھی جو آج میں نے

نظر کو جلوہ ملا، دل کو مگر جلا پایا
نگاہِ خلق کا صدقہ لیا، سناج میں نے

حسن کو آئینہ سمجھا، نفس کو راہنما
خودی کو بیچ کے چمکا ہر اک سماج میں نے

خدا سے دور رہی، عکس کو رب جانا
چھپا کے سچ کو رکھا ہر نئے رواج میں نے

جہاں کی شہرت و دولت پہ فخر کرتی رہی
بکھر گئی تھی مگر جب کھُلا مزاج میں نے

لبوں پہ ذکر تھا میرا، بدن تھا خاص تمہید
مگر سکون نہ ملا لاکھ کی معراج میں نے

غرور، فتنہ، ہوس — یہ میرے سنگ رہے
کیا خاک پا سکا دل میں وہ معراج میں نے؟

اک اشک گِرا تو بند در وا ہوئے
خُدا کو پایا جب توڑا ہر احتجاج میں نے

اب آئینہ نہیں، دل ہے مرا معیارِ جمال
بدن سے باطن تلک دیکھا نیا سماج میں نے

شاکرہ اب نئی صبحوں کی جستجو میں ہے
خودی کی روشنی میں بدلا ہر سماج میں نے

شاکرہ نندنی

post bar salamurdu

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button