آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعارف امام

بجا ہنگامہ آرائی ہماری

عارف امام کی اردو غزل

بجا ہنگامہ آرائی ہماری
نِری وحشت ہے تنہائی ہماری

نہیں آئے ابھی جامے سے باہر
گریباں تک ہے رسوائی ہماری

الگ ویرانئ صحرا اور اُس پر
سِوا ہے آبلہ پائی ہماری

فقط حلیہ ہی مجنوں سا نہیں ہے
طبیعت بھی ہے سودائی ہماری

لہو نے خاکِ مقتل کی مدد سے
نئی تصویر بنوائی ہماری

کِسی نے شہر کی بنیاد رکھّی
کِسی نے جھونپڑی ڈھائی ہماری

ہمیں اک جنگ ہے درپیش خود سے
تعاقب میں ہے پسپائی ہماری

دعا کرتے ہیں لیکن جانتے ہیں
نہیں ہونے کی شنوائی ہماری

ہمیں بھی اُس طرف جانا ہے لیکن
ابھی باری نہیں آئی ہماری

خوشی سے بند ہیں اپنے گھروں میں
تماشہ ہے یہ خود رائی ہماری

لپٹ جاتی ہے جب بھی دیکھتی ہے
شبِ غربت ہے ماں جائی ہماری

جہاں ناقوس پھونکے جارہے ہیں
وہیں گونجے گی شہنائی* ہماری

ہمیشہ دکھ ہمارا بانٹتی ہے
بہت اچھی ہے ہمسائی**ہماری

جو سوتے ہیں تو سونے دو وگرنہ
قیامت ہوگی انگڑائی ہماری

ہزاروں بار دیکھا اُس کاچہرہ
نظر ہر بار دھندلائی ہماری

نہیں لکھتے گلی کوچوں کا لہجہ
عبث ہے خامہ فرسائی ہماری

عجب اک داغ تھا سینے پہ جس نے
بہت پیشانی چمکائی ہماری

عارف امام

٭ ڈاکٹر بسم اللہ خان (مشہور شہنائی نواز)
**ارون دھتی رائے

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button