اردو غزلیاتشعر و شاعریگلزار

ہر ایک غم نچوڑ کے

گلزار کی ایک اردو غزل

ہر ایک غم نچوڑ کے ہر ایک رس جیے

دو دن کی زندگی میں ہزاروں برس جیے

صدیوں پہ اختیار نہیں تھا ہمارا دوست

دو چار لمحے بس میں تھے ، دو چار بس جیے

صحرا کے اس طرف سے گئے سارے کارواں

سن سن کے ہم تو صرف صدائے رس جیئے

ہونٹوں میں لے کے رات کے آنچل کا اِک سرا

آنکھوں پہ رکھ کے چاند کے ہونٹوں کا مَس جیے

محدود ہیں دُعائیں مرے اختیار میں

اِک سانس پُر سکون ہو تو سو برس جیے

 

گلزار

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button