تشکر کی خواہش سے کبھی کچھ نہ ملے
نہ جتاو احسان ، تو ہر آن صلاح نیا ملے
گل پوشی کی تمنا سے کیا ہوگا حاصل
دکھاوے کی عبادت سے آخرت نہ ملے
بے لوث و مخلص رہو بارگاہ الہی میں
تو کبھی کوئی کام تمہیں ناممکن نہ لگے
آزمائشوں کو دنیا کی انعام جانو رب کا
تو توقع سے بہت آگے تمہیں مقام نیا ملے
مددِ مظلوم فریضہ ہے ناقابل فراموش
غفلت گر کیا تو راہ نجات کبھی نہ ملے
ہو جاؤ ساتھ مظلوموں کے تم حجازی
امن و سلامتی بے مقصد کبھی نہ ملے
محمد حجازی








