آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ
میں اپنے آپ کو پہچاننے سے قاصر ہوں
کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
میں اپنے آپ کو پہچاننے سے قاصر ہوں
مگر یہ بات ابھی ماننے سے قاصر ہوں
وہ ہر کسی پہ برابر کبھی نہیں کھلتا
سو جان کر بھی اُسے جاننے سے قاصر ہوں
ابھی تو کارِ جہاں سے الجھ رہی ہوں میں
یہ خاکِ دشتِ ابھی چھاننے سے قاصر ہوں
کبھی کبھار جفا کو بھی دل مچلتا ہے
میں سر پہ ابرِ وفا تاننے سے قاصر ہوں
تو سچ کیساتھ ملاتا ہے جھوٹ باتوں میں
تجھے میں آئینہ گرداننے سے قاصر ہوں
کومل جوئیہ








