مادی و معنوی ترقی و کمال
ایک اردو تحریر از محمد حسین بہشتی
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اللہ تعالی نے ہمیں ایک بار پھر توبہ و استغفار ، اصلاح نفس ، تقوی و پرھیزگاری ، مادی و معنوی ، دنیوی و آخروی ترقی و کمال کے لیے ایک نادر اور سنہرا موقعہ عنایت فرمایا ہے یہ ہماری زندگی موت و حیات کے درمیان ایک پریڈ اور وقفہ ہے جسمیں جو نیک و بد بننا ہے آپ کی مرضی ہیں انا ھدینا السبیل اما شاکرا و اما کفورا اب یہ نیک و بد انسان بننے میں صرف عبادت و بندگی کافی نہیں ہے یہ ایک سبب ہے ایک عمل ہے نیک انسان بننے کے لیے بہت سارے عوامل ہیں جو انسان کی ہر سانس وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں
نیک و بد ، اچھے اور برے کردار اور عمل میں بہت سی چیزیں
دخیل ہیں اس میں کھانے پینے ، کہنے سننے ، بول چال ،کردار و گفتار سب شامل ہیں اسی لیے ماہ مبارک رمضان ایک نادر و سنہرا موقعہ ہے جسمیں انسان روزہ رکھ کر جسمیں صرف کھانے پینے کے روزہ کے علاوہ کان کے روزہ ، آنکھ کے روزہ ، زبان کے روزہ ، سوچ و فکر کے روزہ۔۔۔۔سب کا خیال رکھنا بہت ضروری امر ہے لیکن ہم بیچارے انسان اسی ماہ رمضان کے روزے سے بھاگ جاتے ہیں کبھی جوانی کے غرور و نشے ، کبھی جہالت و نادانی ، کبھی شہوت و قدرت کے اسیر وغیرہ سے اس عظیم فیض سے محروم رہ جاتے ہیں خوشا بحال ہیں
وہ لوگ جو ماہ مبارک رمضان کے روزے مکمل رکھتے ہیں اس سے بھی زیادہ بہت شاذ و نادر وہ مومن و مسلمان ہوتے ہیں جو کھانے پینے کے روزے کے ساتھ ساتھ کان کے روزے ، آنکھ کے روزے ، زبان کے روزے کے پابندی کرتے ہیں وگرنہ عام طور پر وہی صبح کی آذان سے لیکر مغرب کی آذان تک صرف کھانے پینے سے ہی پرھیز کرتے نظر آتی ہیں حالانکہ خداوند ذوالجال والاکرام نے انسان کو مادی و معنوی دونوں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے یقینی بات ہے جب انسان پورے سال خدا کی ناپسندیدہ کاموں سے پرھیز کریں گے جب آپ ہر وہ کام جس سے آپ کی معنویت میں خلل واقع ہونے والے ہر شئی سے پرھیز کریں تو یقینا آپ ایک پاک و نیک و صالح ، خوش اخلاق ، صاحب ایمان انسان کی روپ میں ڈھل جائیں تو یہ آپ کی دنیوی و آخروی کامیابی کے بین ثوبت ہیں یہی در اصل ہماری غرض تخلیق اور بندگی و عبادت کی معراج ہے خداوند متعال سے یہی التجا ہے کہ وہ ہماری ہمیشہ نیک و پاک بننے میں معاون و مددگار ہوں !
محمد حسین بہشتی







