- Advertisement -

افروز عالم:عہد حاضر کا ایک حساس شاعر

تحریر عشرت معین سیما

افروز عالم:عہد حاضر کا ایک حساس شاعر

دنیا کے تمام خطے کی شاعری اپنے وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتے ہیں۔کبھی خطے کے حالات اور کبھی شاعر کی زندگی کے حالات اس میں ایک مسلسل تغیر قائم رکھتے ہیں۔ یہ بات بھی طے ہے کہ سب سے زیادہ اچھی شاعری برے وقت اورخراب زمانے میں ظہورپاتی ہے اور یہ شاعری اُس شاعر کا ایک احتجاجی رویہ اور سلوکِ ناروا کا شکوہ بھی سمیٹے ہوتی ہے۔

اسی لحاظ سے دیکھا جائے تو آج کا یہ دور انسانی تاریخ کے اُن ادوار میں سے ہے جہاں دنیا کے لا تعداد خطوں میں سکون و امن اور رحم و محبت جیسے مواقع اور جزبات کم ہوتے جارہے ہیں زمانہ ایک شورش زدہ صورتحال سے گزر رہا ہے۔ کہیں سیاسی افق پہ انتشار پھیلا ہے تو کوئی خطہ مذہبی انتہا پسندی سے بنرد آزما ہے اورحضرتِ انسان اس دور میں پھیلی ہوئی نفرتوں اور جہالتوں کی آگ کا ایندھن بنا ہوا ہے۔اِن تمام صورتحال کے پیش نظر ایک شاعر اپنی حساس طبیعت کی وجہ سے ان حالات کا کرب اپنے دل میں اپنا درد سمجھ کر قبول کرتا ہے۔وہ اِن صورتحال کے خلاف جب آواز اٹھاتا ہے تواُس کی یہ آواز اُس عہد کی شاعری اور ادب میں ایک تاریخ رقم کرتی ہے:

خاک میں سب کچھ ملایا اے خلیج زندگی

کیا دیا ہے مجھ کو تحفہ اے خلیج زندگی

ذہن کی بنجر زمیں سے آرہی ہے یہ صدا

پھر ہرا ہو کوئی پودا اے خلیج زندگی

ایسے میں افروز عالم کی شاعری پہ ایک نگاہ ڈالی جائے تو بطورِ شاعر وہ اپنے حصے کا احتجاج اپنی شاعری میں بلا خوف و خطر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالات اور نیرنگی زمانے کا شکوہ آپ کی شاعری میں جہاں موجود ہے وہیں اپنی دھرتی سے ہجرت کا دکھ بھی آپ کے کلام میں دھیمی آنچ پر پکتا دکھائی دیتا ہے۔آپ کا کلام بنیادی طور پرمہجری رنگ س میں ڈوبا ہوا ہے۔ آپ کی شاعری زندگی کے تمام ادوار اور وقت و حالات کے تمام پہلوؤں کا afroz alamاحاطہ کئے ہوئے ہیں۔ اس شاعری میں کہیں ایک نوجوان کے دل کی محبت بھری رنگینیاں غم جاناں کی تلاش میں سرگرداں ہیں تو کہیں غمِ روزگار پاؤں سے لپٹ کر ہجرت کے دکھ کو بیان کر رہا ہے۔ افروز عالم کی شاعری اُن کی فنکارانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو وطن سے دوری کا دکھ بھی سمیٹے ہوئے ہیں اور اُردو شاعری کا سر بھی فخر سے بلند کیئے ہوئے ہیں۔ آج کے دیگر شعراء میں اُن کی شاعری جس طرح انہیں ممتاز کرتی ہے وہ یقینی طور پر اُن کا وہ فن ومحنت ہے جس کے لیے وہ ایک عرصے سے مسلسل سفر میں ہیں۔یہ کہنا کسی طرح بھی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ افروز عالم کی شاعری میں انسانی جذبوں کی سچائی کے ساتھ ساتھ ایک فطرت سے قربت کا احساس موجود ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جس موضوع کو بھی موضوعِ سخن بنایا ہے اُس میں اُن کا ذاتی مشاہدہ شامل ہے۔ اُن کا یہ مشاہدہ اتنا قوی معلوم ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جذبات پر اُن کے پیش کردہ الفاظ نوکِ قلم سے نکلنے کو بے قرار ہیں۔اُن کے اس بے اختیاررانہ پن پہ یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے:

میں نے تو اپنے ہاتھ سے بانٹے تھے سب کو پھول

یہ کون میری راہ کو کانٹوں سے بھر گیا

فکر نے زرد کیے ہیں لب و رخسار ترے

تھا رگِ جاں میں لہو گرم رواں یاد کرو

نشاطِ صبح سے سیراب ہے چمن کی زمیں

کھلے کا خار بھی اب گل سے آشنا ہوکر

دل کی بستی ہے مری شہر خموشاں جیسی

اب تو تنہائی میں تہوار گزر جاتا ہے

ایک فطری شاعر ہونے کی دلیل شاید اُن کے خون میں اشعار کی گردش ہے اور اسی فطری شاعرانہ صفت نے ان کی شعری زبان کو بے ساختگی کے فن سے روشناس کیا ہے۔ وہ کسی بھی بڑی سے بڑی بات کو بڑی مہارت کے ساتھ شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں۔ اِس قدرتِ بیان کے تناظر میں اُن کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے:۔

میرے احساس میں خوشبو سی بسی جاتی ہے

دشت و صحرا مجھے گلزار نظر آتے ہیں

زندگی ہے کہ آگ کا دریا

شدت غم سے مر نہ جائیں کہیں

افروز عالم کی شاعری میں زندگی سے ناآسودگی کا شکوہ نظر نہیں آتا جو کہ اُردو شاعری میں اکثر شعراء کا موضوعِ سخن ہے۔ بلکہ وہ اس کے متضاد اس طرح کے منفی رویوں پر اپنی توانائی صرف نہیں کرتے۔ وہ اپنے حال کے کچھ توانا جزبوں کو مرکزِ خیال بنا کر اپنے مثبت رویوں کو تخیل میں ڈھال کر ایک کینوس فراہم کرتے ہیں جہاں وہ اپنے خیالات کی رنگینی بکھیرتے ہیں۔ اُن کی شاعری کا سہل ممتنع کا انداز سادگی سے مزین ہے۔ ان کے یہاں غزل میں کہیں بھی غیر معنویت اور بے وقعتی کا عنصر نہیں دکھائی دیتا ہے۔ اُن کے بعض اشعار سننے اور پڑھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔

عمر بھر کون محبت میں تری روئے گا

اپنی مستی میں سبھی یار نظر آتے ہیں

افروز عالم بہترین استعارات اور تشبیہات کا سہارا لیکر اپنے ذاتی مطالعے اور مشاہدے کو موضوعِ سخن بناتے ہیں اور اس کے اظہار کے فطری شاعرانہ طریقہ کار پر کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ اُ ن کی غزلیں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ افروز عالم کے کلام کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ اُن کی شاعری میں ہمارے معاشرے کے درمیانی طبقہء زندگی کے مسائل اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو موضوعِ سخن بنایا گیا ہے۔ ایک انسانی آنکھ جو دیکھنے کی تاب رکھتی ہے،ایک انسانی حساس دل جو محسوس کرتا ہے اور ایک پُر مغز انسانی ذہن جو اپنی سوچ اور تخیل کو طاقتِ پرواز عطا کرتا ہے اُ س کا بھر پور اظہار انہوں نے اپنی شاعری میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ افروز عالم کے کمالِ فن کی بلندی اُن کا انسانی نفسیاتی رویوں کا بھر پور مشاہدہ ہے وہ اپنی بات بڑی دانائی اور معنویت کے ساتھ اپنے اشعار

میں بیان کرتے ہیں:

رکھنا ہے مجھ کو سلسلہ اہل زمیں کے ساتھ

خواہش بلندیوں کی برابر لیے ہوئے

اُن کی شاعری روانی کا ایک تسلسل قائم کیئے ہوئے ہے اور یہ تسلسل اُن کے جزبات اور خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر اُن کے اشعار کو ایک زندگی جیسی حرارت بخش دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اُن کی شاعری کی یہ خوبصورتی ہر عہد میں اسی طرح تر و تازہ رہے گی اور اُن کے قارئین اس کمالِ فن کو خراج ادا کرتے رہیں گے۔ میری دعا اور خواہش ہے کہ اُن کا یہ کلام فن ایک بلند مقام حاصل کرے اور ہر دور میں شاعری کے میزانِ سخن پر اُن کا پلہ ہمیشہ بھاری رہے۔

تحریر : عشرت معین سیما

بشکریہ : کاروان سائٹ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
افروز عالم کی ایک اردو غزل