اردو نظمپروین شاکرشعر و شاعری

کوئی برس نہیں گیا

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

کوئی برس نہیں گیا
کہ اس کے قرب کی سزا میں
شہر کے سبہی قدر داں
نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے
وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے
اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا
تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں
اگر بکارِ خسروی
کبھی کسی کو اس کی راندۂ جہاں گلی سے ہوکے جانا ہو
تو سب کلاہ دار،
اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں ،
کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں
زنانِ مصر کی طرح سے
اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں

پروین شاکر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button