آپ کا سلاماردو نظمشازیہ اکبرشعر و شاعری

احوال

شازیہ اکبر کی اردو نطم

احوال

چپکے چپکے دل کے اندر
درد کا دریا بہتا ہے
موج موج میں اس دریا کی
کیسی نامانوس زباں میں
کوئی ہمدم ، کوئی ساتھی
دکھ کے قصے کہتا ہے
کبھی کبھی تو اس کی لہریں
بے قابو سی ہو کر مجھ سے
عجب سوال اُٹھاتی ہیں
چٹکی سی اِک لے کر دِل میں
نئی کسک دے جاتی ہیں

شازیہ اکبر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button