آپ کا سلاماردو غزلیاتروبینہ شادشعر و شاعری

کرب سے اذیت سے

روبینہ شاد کی ایک اردو غزل

کرب سے اذیت سے، آشنا نظر آیا
جو تری محبت میں، مبتلا نظر آیا

مر مٹے ہو جو ان پر، مجھ کو یہ تو بتلاؤ
بے چراغ آنکھوں میں، تم کو کیا نظر آیا”

زندگی کے میلے میں، پیار کا دیا تھامے
بے طرح کوئی مجھ کو، ڈھونڈتا نظر آیا

حرص میں وہ دنیا کی، دل نہ فتح کر پایا
اس لیے سکندر بھی، ہارتا نظر آیا

وہ جسے محبت کے، نام سے عداوت تھی
آج اس کی آنکھوں میں، رتجگا نظر آیا

تھا ملال چہرے پر، اضطراب آنکھوں میں
بعد ایک مدت کے، بے وفا نظر آیا

ہم جنوں کے ماروں کو، کیا غرض مسافت سے
چل پڑے جدھر تیرا، نقشِ پا نظر آیا

کیا غضب ہوا کوئی، رات کے اندھیرے میں
اس چمن کے پھولوں کو، نوچتا نظر آیا

روبینہ شاد

post bar salamurdu

روبینہ شاد

روبینہ شاد کا شمار ملک کے ابھرتے ہوئے نوجوان قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معلمہ اور موٹیویشنل سپیکر بھی ہیں۔ ان کی پیدائش 25 نومبر 1990 کو راولپنڈی میں ہوئی۔ ان کا آبائی تعلق شکرگڑھ کے ایک نواہی گاؤں بمبوہ سے ہے۔ پیدائشی نابینا ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام اباد سے اردو ادب میں ایم فل کیا اور اسی جامعہ میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں، علاوہ ازیں ایم ایڈ سپیشل ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ 2018 میں انہوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور بحیثیت اردو لیکچرر اپنی عملی زندگی کا اغاز کیا۔ ان دنوں وہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین مری روڈ راولپنڈی میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں۔ بحیثیت شاعرہ انہیں بہت سے ایوارڈز، اعزازات اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ بعنوان (اقبال عظیم کی غزلیات کا موضوعاتی مطالعہ) کتابی شکل میں شائع ہو کر منظر عام پر آ چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button