کرب سے اذیت سے، آشنا نظر آیا
جو تری محبت میں، مبتلا نظر آیا
مر مٹے ہو جو ان پر، مجھ کو یہ تو بتلاؤ
بے چراغ آنکھوں میں، تم کو کیا نظر آیا”
زندگی کے میلے میں، پیار کا دیا تھامے
بے طرح کوئی مجھ کو، ڈھونڈتا نظر آیا
حرص میں وہ دنیا کی، دل نہ فتح کر پایا
اس لیے سکندر بھی، ہارتا نظر آیا
وہ جسے محبت کے، نام سے عداوت تھی
آج اس کی آنکھوں میں، رتجگا نظر آیا
تھا ملال چہرے پر، اضطراب آنکھوں میں
بعد ایک مدت کے، بے وفا نظر آیا
ہم جنوں کے ماروں کو، کیا غرض مسافت سے
چل پڑے جدھر تیرا، نقشِ پا نظر آیا
کیا غضب ہوا کوئی، رات کے اندھیرے میں
اس چمن کے پھولوں کو، نوچتا نظر آیا
روبینہ شاد








