ان سے کہیں کہ چپ رہیں سو بار چپ رہیں
کیوں کر رہے ہیں شور یوں بے کار چپ رہیں
ہم بھی خموشی اوڑھ کے چپ چاپ سو گئے
تب سے ہمارا گھر درودیوار چپ رہیں
خلوت میں خامشی کی یوں عادت نا ڈالیے
ایسا نہ ہوکہ ہم سرِ بازار چپ رہیں
کچھ بھی کہا تو یہ نہ ہو ہو جائیں وہ خفا
کرتا ہوںمیں دعا کہ مرے یار چپ رہیں
دیکھا ہے ہم نے درد کو رنگین روپ میں
سو ہم سے گفتگو میں اداکار چپ رہیں
صیاد کہہ رہا ہے پرندے نہ بول پائیں
اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اشجار چپ رہیں
پہلے کہا کہ بولنا سیکھو اے میرے دوست
اب بولنے پہ کہتے خبردار چپ رہیں
دھڑکن کی لے میں چھپ گئی سعدی کی سسکیاں
ان کا یہ حکم تھا سرِدربار چپ رہیں
سعادت علی سعدی








