اردو غزلیاتڈاکٹر دانش عزیزشعر و شاعری

ہو جائیں کسی کے جو کبھی یار منافق

دانش عزیز کی ایک اردو غزل

ہو جائیں کسی کے جو کبھی یار منافق
سمجھو کہ ہوئے ہیں در و دیوار منافق

بن جاتا ہے کیسے کوئی سالار منافق
یہ بات سمجھنے کو ہے درکار منافق

ممکن تھا کبھی ان کو میں خاطر میں نہ لاتا
ہوتے جو مقابل مرے دو چار منافق

ان کو کسی بازار سے لانا نہیں پڑتا
یاروں میں ہی مل جاتے ہیں تیار منافق

ناپید ہوا جاتا ہے اخلاص یہاں پر
سردار منافق ہے سر دار منافق

جو شخص منافق ہے منافق ہی رہے گا
اک بار منافق ہو یا سو بار منافق

سچائی زباں کاٹ کے چپ چاپ کھڑی ہے
شہرت کی بلندی پہ ہیں اخبار منافق

لکھا ہے منافق نے منافق کا فسانہ
اس واسطے رکھے ہیں یہ کردار منافق

جس شہر کی بنیاد منافق نے ہو رکھی
قائم وہاں ہو جاتی ہے سرکار منافق

مخلص ہیں جو کھل کر مری تائید کریں گے
بھڑکیں گے یہ سن کر مرے اشعار منافق

دانشؔ یہ حقیقت ہے بھلے مانو نہ مانو
اخلاص کا طے کرتے ہیں معیار منافق

دانش عزیز

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button