پتہ دائیں9 پسلی کے نیچے جگر کے ساتھ واقع ہے۔ جگر صفرا (Bile)پیدا کرتا ہے ۔اور پتہ اسے گاڑھا کر کے محفوظ کر لیتا ہے۔ اور بوقت ضرورت کام کے لئے اکثر چھوٹی آنت میں خود گرا دیتا ہے۔ صفرا کا رنگ بڑھ جائے تو سارے جسم کو پیلا کر دیتا ہے۔ Bile Salt ہاضمے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وٹا من K ان کے بغیر جذب نہیں ہو سکتی۔وٹا من Kکا مقصد خون کو بہنے سے روکنے کا ہے۔ صفرا کی آنتوں میں مطلوبہ مقدار میسر نہ ہو تو گھی یا چکنائیوں کے کھانے سے تکلیف ہو جاتی ہے۔ (Cholelithiass) یعنی گال سٹون۔ جگر صفرا اور کولیسٹرول بناتا ہے۔ پتہ درست ہو تو پتھری بننے ہی نہیں دیتا۔ پتھری ، کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو تو ایکسرے میں نظر آتی ہے۔ ورنہ الٹرا ساؤنڈ کروانا پڑتا ہے۔ التہاب مرارہ (Acute Cholecystitis) اور پتہ کی سوزش (Peritonitis) کی علامات درج ذیل ہیں۔ وسطی پیٹ میں درد ۔ پسلیوں کے نیچے دونوں کندھوں کے درمیان ، پچھلی طرف سردی لگ کر بخار چڑھنا۔ بھوک ۔ڈکار اور ہوا بند۔صفرا کا ٹیسٹ Bilirubinکہلاتا ہے۔ ایلو پیتھی میں پتے کا مستقل علاج نہیں سوائے سرجری کے۔صفراوی نمک جذب نہ ہونے پر Triglyceride کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے خون کی بیماری Hemolysis پیدا ہو جاتی ہے۔جسکی وجہ سے ساری زندگی Digestive Enzymeکی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔شدید سوزش کے دوران قے۔بد ہظمی معدہ کی سوزش۔بخار۔اور درد کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
طب نبوی میں اس کا علاج درج ذیل ہے۔
انجیر: نہار منہ کھانے سے خون کی نالیوں میں اور پتے کی نالیوں سے پتھریاں اور سدے نکالتی ہے۔ انجیر پتہ کی سوزش اور پتھری
کے خلاف سب سے بڑی پیش بندی ہے۔
جو کا دلیا:پیشاب آور ہے۔پیٹ سے ہوا نکالتا ہے۔ صفرا کو خارج کرتا ہے۔ معدے میں جلن کی وجہ سے قے اورکولیسٹرول کو کم کر دیتا ہے۔
زیتون: زیتون کا تیل پتہ کو سکیڑ کر صفرا کو باہر نکالتا ہے ۔اور چھٹی پتھریاں بھی نکال دیتا ہے۔
طب نبوی کے مطابق ڈاکٹر خالد غزنوی صاحب نے پتے کے علاج کے لئے ایک نسخہ تجویز فرمایا۔
1۔ صبح نہار منہ بڑا چمچہ شہد ابلے پانی کے ساتھ
2۔ ناشتہ تلبینہ (جو کا دلیا رات پانی میں بھگو لیں صبح اسی پانی کے ساتھ دودھ میں پکا لیں ۔ ایک چمچ شہد ملا کر استعمال کریں)
3۔ کلونجی 2 گرام + کاسنی کے بیج 1 گرام کے حساب سے۔ (پتہ میں سوزش نہ ہو تو) چھوٹا چمچہ صبح ۔شام کھانے کے بعد
4 ۔ قسط شیریں 20 گرام + کلونجی 30 گرام + کاسنی کے بیج 10 گرام ( پتہ میں سوزش ہو تو) چھوٹا چمچہ صبح و شام
آیورویدک
ڈاکٹر بیسواروپ رائے چوہدری جو کہ آجکل آیوروید کی اتھارٹی مانے جاتے ہیں۔ پتے کی پتھری تین سے چھ ملی میٹر تک کے بارے میں کہا ۔ 20 گرام کلتی کی دال کو 200گرام پانی میں اس وقت تک ابالو ۔ کہ پانی آدھا یعنی 100 گرام رہ جائے۔ ٹھنڈا ہونے کے بعد اس چھان لیں ۔ 50 ml ناشتہ سے پہلے 50 ml شام کے کھانے سے پہلے۔ایک مہینے تک استعمال کریں ۔ اب الٹرا ساؤنڈ کروا کے چیک کر لیں ۔ آپ کو فرق محسوس ہو گا۔
اچاریہ منیش جی کے مطابق پتے سے پتھری نکالنے کا علاج درج ذیل ہے۔ سات دن تک تین سے چار سیب روزانہ کھانے ہیں ۔ اس کے علاوہ سیب کا سرکہ روزانہ تین سے چار مرتبہ استعمال کرنا ہے۔ صبح ناشتے میں 250گرام فروٹ کی پلیٹ کھانی ہے ۔ شام کو ویجی ٹیبل سلاد کھانا ہے ۔ سات دن تک گھی یا چکنائی استعمال نہیں کرنی۔سات دن بعد شام چھ بجے 100 ml زیتون کا تیل ۔فروٹ کا جوس قدرتی والا۔ مکس کر کے پینا ہے أ اس کے بعد 5منٹ تک دائیں کروٹ لیٹنا ہے۔ شام 8بجے 50 ml پھر پینا ہے۔ ان دنوں میں کھانا کم سے کم کھانا ہے۔صبح پا خانے میں پتھری نکل جائے گی۔اس عمل کو بیس دن بعد پھر کریں۔ تا کہ پتھری مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ پتہ میں پتھری Fatty Liverکی بھی علامت ہو تی ہے۔ لیور Detox کا بھی یہی طریقہ ہے۔پتہ کا اپریشن کروانے سے پہلے ضرور آزما لیں ۔
ہو میوپیتھی
ڈاکٹر اندر جیت بگا کے مطابق پت کی تھیلی میں پتھری کی وجہ جگر ہے۔ بائل کے ساتھ گندگی یعنی پتھری کے دانے پتہ میں جمع ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ لیور کے اور 500فنکشن ہیں ۔ پتھری کا کیلشیم آکسلیٹ کہتے ہیں جس کی وجہ سے پتہ کی جھلی سخت ہو جاتی ہے۔ اسے نرم کرنے کے لئے میگنیشم سلفیٹ (Epsom Salt) دیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ خالص Citrus Fruit دیا جاتا ہے۔ چھ ۔ سات دن کے بعد خالص زیتون کا تیل دیا جاتا ہے۔ جس سے پتہ کی پتھری بغیر آپریشن کے نکل جاتی ہے۔ اس کے لئے آپ مستند ہو میو پیتھی ڈاکٹر سے مشورہ کر سکتے ہیں۔
منجانب: انجمن خیر الناس ۔ لودھی سٹریٹ ۔ٹبہ ککے زئیاں سیالکوٹ ۔ عادل خان لودھی








