خوابوں کی سیاست اور زمینی حقیقت
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران جو وعدے عوام سے کیے جاتے ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد وہ یا تو پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں یا مکمل طور پر فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنے منشور میں سنہرے خواب دکھاتی ہے، خوشحالی، انصاف اور ترقی کے نعرے لگاتی ہے، مگر جب عملی میدان میں کارکردگی دکھانے کا وقت آتا ہے تو وہی خواب حقیقت کی گرد میں کھو جاتے ہیں۔
ماضی قریب میں پاکستان تحریکِ انصاف نے نوکریوں کی فراہمی، عام آدمی کے لیے گھر، صحت کارڈز، اور تعلیمی اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کیے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے دس ارب درخت لگانے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختون خوا میں طویل حکومت کے باوجود عوامی سہولتوں کی صورتِ حال میں خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔ بڑے شہروں سے ہٹ کر دیہی علاقوں میں زندگی کی بنیادی ضرورتیں ناپید ہیں۔ یہی احساس محرومی عوامی ردِعمل میں جھلکا، جس کا اظہار انہوں نے انتخابات کے نتائج کے ذریعے کیا۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت، خصوصاً مریم نواز، نے حکومت سنبھالنے کے بعد نسبتاً بہتر طرزِ حکمرانی دکھانے کی کوشش کی۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے میں کئی نئے منصوبے شروع کیے گئے، اور انتظامی سطح پر تبدیلی کا ایک نیا تاثر پیدا ہوا۔ عوام نے محسوس کیا کہ پنجاب میں حکومتی نظام میں کچھ تازگی اور بہتری آئی ہے، جس سے مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ تاہم، چیلنجز اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں، اور ان کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی ضروری ہے۔
سندھ کی صورتِ حال اب بھی مایوس کن ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کئی دہائیوں سے وہاں برسرِ اقتدار ہے، لیکن عوامی فلاح کے ثمرات تاحال ناپید ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹرانسپورٹ، صفائی اور پینے کے پانی کا مسئلہ بدستور موجود ہے، جب کہ اندرونِ سندھ کے حالات مزید ابتر ہیں۔ تعلیم اور صحت کا نظام زبوں حالی کا شکار ہے، نوجوان روزگار کے مواقع سے محروم ہیں، اور عوامی زندگی میں بہتری کا احساس کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے منشور میں مفت بجلی، تنخواہوں میں اضافہ اور غربت مٹاؤ پروگرام جیسے وعدے شامل تھے، مگر عملی طور پر کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہ ہو سکی۔ طویل اقتدار کے باوجود کارکردگی میں نمایاں فرق نہ آنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ان حالات میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے سیاسی کلچر میں منشور محض انتخابی مہم کا ایک حربہ ہے، عوام سے کیا گیا حقیقی معاہدہ نہیں۔ ترقی یافتہ جمہوریتوں میں سیاسی جماعتیں اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں تاکہ لوگ جان سکیں کہ وعدوں میں سے کتنا پورا ہوا اور کتنا ادھورا رہ گیا۔ لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی پیش کرنے کے بجائے زیادہ تر ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں وقت ضائع کرتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک خودمختار ادارہ قائم کیا جائے جو ہر حکومت کی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے پر غیر جانب دارانہ عوامی کارکردگی رپورٹ پیش کرے۔ اسی طرح ذرائع ابلاغ کو بھی محض سیاسی کشمکش دکھانے کے بجائے عوامی وعدوں کی حقیقت سامنے لانی چاہیے۔ اصل صحافت وہی ہے جو اقتدار میں آنے والوں سے جواب طلبی کرے، نہ کہ صرف ان کے بیانات نشر کرے۔
عوام کو بھی اپنے ووٹ کی طاقت اور اہمیت کا احساس کرنا ہوگا۔ ووٹ صرف نعروں، شخصیات یا جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ منشور اور کارکردگی کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے۔ جب تک عوام خود جواب دہی کا تقاضا نہیں کریں گے، سیاست دان اپنے وعدوں کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔
ملک کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات اور باہمی کشمکش کو چھوڑ کر معیشت، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دیں۔ اگر منشور صرف جلسوں اور تقاریر تک محدود رہے تو جمہوریت کمزور اور عوام مزید مایوس ہوتے جائیں گے۔
اصل جمہوریت وہی ہے جس میں وعدے پورے کیے جائیں، عوام کو جواب دہ سمجھا جائے، اور اقتدار کا مرکز عوام کی خدمت ہو، نہ کہ ان پر حکمرانی کا شوق۔
یوسف صدیقی








